ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راہل گاندھی کے طیارے میں تکنیکی خرابی، سازش کا اندیشہ

راہل گاندھی کے طیارے میں تکنیکی خرابی، سازش کا اندیشہ

Sat, 28 Apr 2018 12:01:28    S.O. News Service

بنگلورو؍نئی دہلی 27؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس صدر راہل گاندھی جمعرات کو جس طیارے سے دہلی سے کرناٹک جا رہے تھے کیا اس میں کوئی چھیڑخانی کی گئی تھی؟ طیارے میں پرواز کے دوران جو آوازیں آ رہی تھیں وہ غیر معمولی تھیں اور طیارے میں آٹو پائلٹ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ بھی طیارے میں کئی قسم کی خرابیاں درج کی گئیں۔ اس سلسلے میں کانگریس کی طرف سے کرناٹک کے ڈی جی پی اور آئی جی کو تحریری شکایت پیش کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق کرناٹک پولس کے ڈائریکٹر جنرل اور آئی جی نیل منی این راجو کو لکھے شکایتی خط میں کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی جس طیارے سے کرناٹک آ رہے تھے، اس میں طیارہ کے حادثے کا شکار ہونے کا خدشہ تھا۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ طیارہ میں سوار مسافروں کی جان خطرہ میں تھی۔ اس خصوصی طیارے میں کانگریس صدر راہل گاندھی کے علاوہ کوشل ودیارتھی، راہل روی، رام پریت اور راہل گوتم سوار تھے۔

کوشل ودیارتھی کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ طیارے نے کرناٹک کے ہبلی کے لئے جمعرات صبح تقریباً 9.20 پر پرواز بھری تھی اور اسے 11.45 بجے تک منزل پر پہنچنا تھا۔ شکایت کے مطابق 10.45 کے قریب طیارہ بائیں جانب جھکنے لگا اور خوفناک طریقہ سے لرزتے ہوئے تیزی سے نیچے جانے لگا۔

خط کے مطابق موسم کی جو پیش گوئی کی گئی تھی موسم اسی کے مطابق ہی تھا۔ ہوا چل نہیں رہی تھی اور دھوپ کھلی ہوئی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے کی پرواز کے بعد اچانک طیارے کے ایک حصے سے کھڑکھڑاہٹ کی آواز آنی شروع ہوگئی۔ دریں اثنا، طیارہ بائیں طرف جھکنا شروع ہو گیا اور خوفناک طریقے سے لرزتے ہوئے تیزی سے نیچے کی جانب جانے لگا۔

شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طیارے میں آٹو پائلٹ کام نہیں کررہا تھا۔ ہبلی میں طیارے کی لینڈنگ کے لئے تین بار کوشیش کی گئیں، تب کہیں جاکر طیارہ لینڈ ہوسکا۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ طیارے کے 11.25 پر ہبلی میں لینڈ کرنے کے بعد بھی اس میں سے مسلسل لرزنے کی آوازیں آتی رہیں۔ طیارے کے عملے نے بھی اس پرواز کے دوران طیارہ میں تکنیکی خرابی کی بات کا اعتراف کیا ہے۔

اس واقعہ پر کوشل ودیارتھی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ شکر ہے سبھی صحیح سلامت ہیں۔ انہوں نے لکھا ’’اس سے پہلے کسی پرواز میں ایسا خوف ناک تجربہ نہیں ہوا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ طیارہ نیچے گرتا ہی جارہا ہے۔ ایسے حالات میں کانگریس صدر راہل گاندھی کا تحمل بے مثال تھا۔ وہ مسلسل پائلٹ کے ساتھ حالات پر قابو کرنے کی کوششیں کرتے نظر آ رہے تھے۔

اسی طیارے میں راہل گاندھی کے ساتھ سفر کر رہے راہل ایس روی نے اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا ’’طیارے میں جو کچھ ہو رہا تھا اس سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ ہم صحیح سلامت پہنچ پائیں گے... لیکن اس کے بیچ راہل گاندھی کی بہادری کی داد دینی ہوگی کہ وہ کس طرح حالات کو سنبھال رہے تھے۔ وہ خود بھی پائلٹ ہیں اس لئے لگاتار عملے کے ساتھ کھڑے رہے۔‘‘

دریں اثنا شکایت منظر عام پرنے آنے کے بعد ڈی جی سی اے یعنی شہری ہوا بازی ڈائریکٹوریٹ جنرل نے کہا کہ طیارے کے آٹو پائلٹ میں کچھ دقتیں تھیں اس لئے اسے مینول موڈ میں شفٹ کیا گیا جس کے بعد طیارے کی محفوظ لینڈنگ ہو سکی۔ ڈی جی سی اے نے کہا کہ وہ کسی بھی وی آئی پی فلائٹ کی گہرائی سے تحقیقات کرتے ہیں اور اس معاملہ میں بھی کی جائے گی۔


Share: